شام کے اذکار
اللَّهُمَّ أَنْتَ رَبِّي لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ ، عَلَيْكَ تَوَكَّلْتُ ، وَأَنْتَ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ , مَا شَاءَ اللَّهُ كَانَ ، وَمَا لَمْ يَشَأْ لَمْ يَكُنْ ، وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ الْعَلِيِّ الْعَظِيمِ , أَعْلَمُ أَنَّ اللَّهَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ ، وَأَنَّ اللَّهَ قَدْ أَحَاطَ بِكُلِّ شَيْءٍ عِلْمًا , اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ نَفْسِي ، وَمِنْ شَرِّ كُلِّ دَابَّةٍ أَنْتَ آخِذٌ بِنَاصِيَتِهَا ، إِنَّ رَبِّي عَلَى صِرَاطٍ مُسْتَقِيمٍ.
اے اللہ! تو میرا رب ہے، تیرے سوا کوئی معبود نہیں۔ میں نے تجھ پر بھروسا کیا، اور تو عرشِ عظیم کا رب ہے۔ اللہ جو چاہے وہ ہوتا ہے اور جو نہ چاہے وہ نہیں ہوتا۔ بلند مرتبہ، عظمت والے اللہ کے سوا کسی میں برائی سے بچنے کی طاقت اور نیکی کرنے کی قوت نہیں۔ میں جانتا ہوں کہ اللہ ہر چیز پر قادر ہے اور اللہ نے ہر چیز کو اپنے علم سے گھیر رکھا ہے۔ اے اللہ! میں اپنے نفس کے شر سے اور ہر اس جاندار کے شر سے تیری پناہ چاہتا ہوں جس کی پیشانی تیرے قبضے میں ہے۔ بے شک میرا رب سیدھی راہ پر ہے۔
ذِكْرٌ طَيِّبٌ.
اچھا ذکر ہے۔
وضاحت اور ماخذ
الْحَدِيثُ ضَعِيفٌ، وَلَكِنْ إِذَا عَمِلَ بِهِ الْإِنْسَانُ رَجَاءَ أَنْ يَنْفَعَهُ اللَّهُ بِهِ فَهُوَ ذِكْرٌ طَيِّبٌ، وَهُوَ ذِكْرٌ عَظِيمٌ ذِكْرٌ طَيِّبٌ لَا بَأْسَ بِهِ، لَكِنْ مِنْ غَيْرِ اعْتِقَادِ أَنَّهُ يَحْصُلُ بِهِ هَذَا الْمَطْلُوبُ، وَبِغَيْرِ اعْتِقَادِ أَنَّهُ سُنَّةٌ، لَكِنَّهُ ذِكْرٌ مِنْ أَعْظَمِ الذِّكْرِ الْمَشْرُوعِ.
یہ حدیث ضعیف ہے، لیکن اگر کوئی شخص اس امید سے اسے پڑھے کہ اللہ اس سے فائدہ دے گا تو یہ اچھا اور عظیم ذکر ہے، اس میں کوئی حرج نہیں؛ لیکن یہ اعتقاد نہ رکھے کہ اس سے یہ مطلوبہ نتیجہ ضرور حاصل ہوگا، اور نہ اسے سنت سمجھے۔ تاہم یہ مشروع اذکار میں سے ایک عظیم ذکر ہے۔