مسجد کے اذکار

مطالعے کی ترتیبات
دُعَاءُ الذَّهَابِ إِلَى الْمَسْجِدِ
اللَّهُمَّ اجْعَلْ فِي قَلْبِي نُورًا ، وَفِي لِسَانِي نُورًا، وَاجْعَلْ فِي سَمْعِي نُورًا، وَاجْعَلْ فِي بَصَرِي نُورًا، وَاجْعَلْ مِنْ خَلْفِي نُورًا، وَمِنْ أَمَامِي نُورًا، وَاجْعَلْ مِنْ فَوْقِي نُورًا ، وَمِنْ تَحْتِي نُورًا .اللَّهُمَّ أَعْطِنِي نُورًا.
مسجد جاتے وقت کی دعا
اے اللہ! میرے دل میں نور، میری زبان میں نور، میرے کانوں میں نور، میری آنکھوں میں نور، میرے پیچھے نور، میرے آگے نور، میرے اوپر نور اور میرے نیچے نور بنا دے۔ اے اللہ! مجھے نور عطا فرما۔
دُعَاءُ دُخُولِ الْمَسْجِدِ
يَبْدَأُ بِرِجْلِهِ الْيُمْنَى، وَيَقُولُ:
أَعُوذُ بِاللَّهِ الْعَظِيمِ وَبِوَجْهِهِ الْكَرِيمِ وَسُلْطَانِهِ الْقَدِيمِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ، بِسْمِ اللَّهِ، وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ، اللَّهُمَّ افْتَحْ لِي أَبْوَابَ رَحْمَتِكَ.
مسجد میں داخل ہونے کی دعا
دائیں پاؤں سے آغاز کرے اور کہے:
میں عظمت والے اللہ، اس کے عزت والے چہرے اور اس کی قدیم بادشاہی کی پناہ میں آتا ہوں، شیطان مردود سے۔ اللہ کے نام سے، اور اللہ کے رسول پر رحمت اور سلام ہو۔ اے اللہ! میرے لیے اپنی رحمت کے دروازے کھول دے۔
دُعَاءُ الْخُرُوجِ مِنَ الْمَسْجِدِ
يَبْدَأُ بِرِجْلِهِ الْيُسْرَى، وَيَقُولُ:
بِسْمِ اللَّهِ وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ، اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ مِنْ فَضْلِكَ، اللَّهُمَّ اعْصِمْنِي مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ.
مسجد سے نکلنے کی دعا
بائیں پاؤں سے آغاز کرے اور کہے:
اللہ کے نام سے، اور اللہ کے رسول پر رحمت اور سلام ہو۔ اے اللہ! میں تجھ سے تیرا فضل مانگتا ہوں۔ اے اللہ! مجھے شیطان مردود سے محفوظ رکھ۔
مطالعے کا وقتجب آپ تیار ہوں
0 / 0

آپ کے مکمل مطالعے یہاں ظاہر ہوں گے۔

مطالعہ رکا ہوا ہے

وضاحت اور ماخذ

ذکر شیئر کریں

WhatsApp Telegram Facebook X
شیئر کرنے کا متن

دوبارہ شروع کریں؟

اس سے اس زمرے کے موجودہ شمار اور محفوظ جگہ صاف ہو جائیں گے۔ مکمل مطالعے کی تاریخ محفوظ رہے گی۔

حدیث لائبریری سے

حدیث
Narrated Ibn 'Abbas: That the Messenger of Allah (ﷺ) said: "Any skin tanned, then it has been made pure." This Hadith is Hasan Sahih. This is acted upon according to most of the people of knowledge, they say that when the skin of a dead animal has been tanned then it has been made pure. [Abu 'Eisa said:] Ash-Shafi'i said: "Any dead animals skin that is tanned, then it has been made pure, except for the dog and the pig." Some of the people of knowledge among the Companions of the Prophet (ﷺ) disliked skins of predators even when tanned, and this is the view of 'Abdullah bin Al-Mubarak, Ahmad and Ishaq, and they were firm about not wearing them and performing Salat in them. Ishaq bin Ibrahim said: "The saying of the Prophet (ﷺ):'Any skin that is tanned, then it has been made pure' only refers to the skins of animals whose meat is eaten." This is how it was explained by An-Nasr bin Shumail.